شعبہ تعلیم کا تاریخی پس منظر History of Education

شعبہ تعلیم کا تاریخی پس منظر

E     انسان کی با قاعدہ  تاریخ  تقریباً 8000قبل مسیح سے شروع ہوئی جس کےدوران انسانوں نے  کاشتکاری کرنے کی کوشش کی، گھر بنائے،مجسمہ سازی کی کوشش شروع کی جس کے ذریعے معلومات منتقل ہونے کا عمل آگے بڑھا اور اس میں جدت آتی گئی۔

history of eduction


E     تقریبا ً 4000سے 5000 قبل مسیح  کے دوران  انسانی تاریخ میں تقریباً عراق سے سے لکھنے پڑھنے کا رواج ہوا ۔ لکھنے کے لیے حروف تہجی بنائے گئے ان سے الفاظ اور پھر جملے بنائے گئے پھر ان کو کتابی شکل دی گئی ۔
E     3400قبل مسیح میں مصر میں با قاعدہ لکھنے پڑھنے کا رواج تھا حروف تہجی بنائے گئے اور انکو  پتھر پر لکھا جاتا تھا  بعد میں تقریباً 2000قبل مسیح تک مصر میں لکھنے کے لیے  پیپائرس کا استعمال بھی ہونے لگا جو کہ کاغذ کا ابتدائی شکل تھی جسے لکڑ ے کے گودے سے تیار کیا جاتا تھا۔مصر میں لکھنے پڑھنے کی مہارت  صرف با دشاہوں اور فوج کے ماہران کو دی جاتی تھی ۔ عام آدمی کے لیے تعلیم حاصل کرنا یا کسی بھی چیز میں مہارت سیکھنا با قاعدہ طور پر مشکل تھا  اس دوران  تقریباً 3000قبل مسیح میں 1یا 0.5فیصد لوگ ہی  لکھنے اور پڑھنے کی مہارت سےآشنا تھا۔
E     چائنہ میں 1400قبل مسیح کے دوران  بون سکرپٹ  استعمال کیا جاتا تھا، جس میں تقریباً 2500حروف تہجی استعمال ہوتے تھے جن میں 1400حروف تہجی کی موجودہ دور میں بھی تصدیق کی  جا سکتی ہے۔
E     ابتداء میں جب میسو پوٹیمیا کی تہذیب میں کیو نفرم لکھائی کا رواج  تھا تب صرف چند امراء یا ماہرین کوہی لکھنے پڑھنے کی مہارت سکھائی جاتی تھی ۔ زیادہ تر بچوں کو تجارت سکھائی جاتی  اور لڑکیوں کو گھر میں گھرداری ، کھانا پکانا  اور چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کرنا سکھا یا جاتا تھا۔بعد میں سلیبس مرتب کیا گیا تب میسوپوٹیمیا میں لڑکے اورلڑکیوں کے لکھنےاور پڑھنے کا رواج ہونا شروع ہوا ۔ لکھنے اورپڑھنے کے بعد زراعت، تجارت، قانون دانی ، علوم کو مرتب کرنے اور انکی وضاحت کرنے کے شعبے اپنائے جانے لگے۔سلیبس میں طلباء کے سکھانے کے لیے گرائمر مرتب کی گئی ، ذخیرہ الفاظ،  جملے کے معنی اور وضاحت کا طریقہ استعمال کیا جاتا تھا۔  تقریبا ً 2100قبل مسیح کے قریب میسو پوٹیمیا کی تہذیب وہ پہلی تہذیب تھی جس میں علم و ادب کا رواج ہوا۔تقریباً 700قبل مسیح کے قریب میسو پوٹیمیا کی تہذیب میں نوجوانو ں کو مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کے لیے تیار کیا جاتا تھا مثلاً لکھنا ،پڑھنا، گھوڑ سواری  کرنا ، شکار کرنا، تیل پیدا کرنا، مٹی سے اشیاء تیار کرنا، بادشاہوں کے محلات کی دیکھ بھال کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ اس دوران اس تہذیب میں پہلی با قاعدہ لائبریری بھی وجود میں لائی گئی ۔
E     یہودیت مذہب کی بنیاد تقریباً 1200قبل مسیح میں ہوئی بعد میں  تورات کی تعلیم کے لیے  لکھنا پڑھنا سکھا یا جاتا تھا۔  تقریباً 100قبل مسیح کے دوان  مذہبی رہنماؤں کیطرف سے مذہبی تعلیمات کے لیے سکول قائم کیے گئے  لکھنے اور پڑھنے ، ذخیرہ الفاظ میں  اضافہ کرنے ، جملوں کو دہرانے اور سابقہ مضمون کی تفصیل کرنے پر زور دیا جانے لگا۔لڑکیوں کو تعلیم دینے کا رواج کم تھا  محض 7سال سے پہلے لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا تھا مگر زیادہ تر  گھرداری سکھائی جاتی تھی ۔اس دوران  تقریبا فلسطین میں صرف 3فی صد لوگ لکھنے اور پڑھنے سے واقفیت رکھتے تھے۔ باقی مشکل سے محض اپنا نام لکھ سکتے تھے۔
E     1500قبل مسیح سے 600قبل مسیح کے دوران  ہندو مذہب کی کتاب "وید" کی تعلیم کا رواج تھا ۔ الفاظ کی یادہانی کرائی جاتی الفاظ کا صحیح تلفظ سکھایا جاتا تھا ، گرائمر سکھائی جاتی حقائق کی بنیاد پرقدرت پر غور کرنا اور اسکی وضاحت کرنے کی مہارت سکھائی جاتی  ، طب کے علوم سکھانے کا رواج تھا مگر یہ تعلیم صرف ہندو طبقات کی وجہ سے صرف "برہمن" طبقے کے لوگوں کے لیے مخصوص تھی باقیوں کو اس کی  رسائی کم تھی۔ بعد میں تعلیم کے حصول کے لیے معلم  کے گھر کو استعمال کیا جاتا تھا جہاں  معلم بغیر اجرت کے مذہب ، فلسفہ ، طب ، جنگی مہارت  وغیرہ کے علوم سکھاتےتھے معلم کے ساتھ سفر کیا جاتا تھا صاحب استطاعت  شاگر دوں کے خاندان   رضارانہ طور پر معلم کو تحفے یا اجرت یا مال و دولت دیتے تھے۔
E     چائنہ میں تقریباً 1300قبل مسیح سے 200قبل مسیح کے دوران کافی سارے عوامی  سطح کے سکو ل  قائم ہوئے جس میں مختلف قسم کی تعلم دی جاتی تھی ۔ ان سکولوں میں ، مذہب،  فلسفہ ، طب ، مارشل آرٹس ، لکھنے پڑھنے کی مہارت وغیرہ سکھائی جاتی  تھیں۔  ان سکول میں زیادہ  تر چھ مہارتیں سکھائی جاتی تھیں  جن  میں ، اصول ، میوزک، تیر اندازی ، گھوڑ سواری، لکھنا پڑھنا اور ریاضی کے اصول لازمی سکھائے جاتے تھے۔  اس دوران میں تقریبا ً 600ق م کے دوران ایک معلم کنفیوشس نے باقاعدہ سکولوں  کی تعلیم میں اہم کردار ادا کیا اس کے سکولوں میں باقاعدہ شاگرد لائن میں بیٹھتے تھے معلم کی طرف توجہ کی جاتی تھی اور بات کو توجہ سے سنا جاتا تھا ۔ اس کی تعلیمات سے کنفیوشس ازم کی بنیاد پڑی ۔ نیپال میں مہاتما بدھ نے بھی اپنی تعلیمات کا آغاز کیا اور اس کے بعد اس کے شاگردوں نے تعلیم  اور طریقہ تدریس کو پھیلایا۔تعلیم مفت دی جاتی تھی  ہر خاص و عام کےلیے تعلیم  تھی  لڑکیوں کو زیادہ تھر سلک تیار کرنے اور اس سے کپڑے تیار کرنے کی مہارت سکھائی جاتی تھی۔
E      تقریبا ً 500ق م سے 400ق م تک یونا ن اور روم میں سکول صرف امراء  اور جنگجو افراد کو  جنگی  مہارات سکھانے کے قائم تھے مگر  دوسرے سکو ل بھی قائم کیے گئے جس میں فلسفہ ، ریاضی ، طب ، میوزک ، ڈانس ، لکھنا اور پڑھنا سکھا یا جاتاتھا ۔ ان سکولوں میں کوئی بھی والدین  اپنے بچوں کو حصول تعلیم کے لئے بھیج سکتے تھے مگر تعلیم  کے حصول کے لیے ماہانہ  معاوضہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ لڑکیوں کو زیادہ تر گھر میں تعلیم دی جاتی تھی ۔ارسطو نے اپنے تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی جسے "لائیسیم " کا نام دیا تھا  افلاطون نے سکول قائم کیا  جنہوں نے بعد میں کافی اثر کیا اس دوران  عوام کے تعلیمی رجحانات میں اضافہ ہوا۔ یونان میں بچوں تعلیم دینے کا یہ رواج بھی تھا جس میں  بچوں کو 7سال  کی عمر میں گھر سے دور لے جایا جاتا ،  وہاں فوجی بیراکس  یا ہاسٹلز میں جنگی مہارتیں سکھائی جاتی تھیں یہ تعلیم صرف امراء اور جنگجو افراد یا انکے بچوں کے لیے تھی۔ سکندر اعظم کا تعلق بھی یہیں سے تھا۔ تا ہم یونا ن میں تعلیم 5فی صد سے تجاوز نہ کر سکی ۔ رومن  دور میں تعلیمی نظام کو عوام کے لیے پھیلایا سکو ل قائم کیے  جہاں  لڑکے اور لڑکیاں ماہانہ فیس دے کر  تعلیم حاصل کر سکتے تھے ۔تعلیم  پرائمری  ، مڈل اور اعلیٰ تعلیم  تک  بھی حاصل کی جا سکتی تھی ۔ رومن   دور میں تعلیم کی شرح میں  تقریباً 20فیصد تک بھی اضافہ ہوا  جس کا تناسب مختلف علاقوں میں مختلف تھا۔
E     اسلام میں مذہبی رحجانات کے ساتھ  ساتھ دیگر تعلیم کے حصول کے رحجان کا اندازہ اس بات  سےلگایا جا سکتا ہے کہ 622ء میں ایک غزوہ کی فتح کے دوران ہاتھ آنے والے قیدیوں پرشرط لگائی گئی کہ اگر وہ مسلمان بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔مسجد نبوی ﷺ کی بنیاد رکھی گئی جو کہ علمی اور ادبی خزانے کا مرکز بن گیا۔ حضرت محمد ﷺ نے ایک بہترین معلم کا نمونہ پیش کرتےہوئے اتنے قلیل عرصہ میں پورے عرب بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کے علمی اور ادبی شعور میں اضافے کا رحجان پیداکیا۔لوگوں کے رہن سہن ، چال چلن، فہم و فراست ، نظم و ضبط  اور علم و ادب میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ تعلیم کا  بنیادی رحجان مسجد اور مدرسہ سے شروع ہوا جس میں "قرآن "کو بطور سلیبس کے طور پر استعمال کیا جاتا  ہر خاص و عام  کے بچے اور بچیوں ، بوڑھے اور نوجوان سب کے لیے  مفت تعلیم دی جاتی تھی۔
E     آپ ﷺ کے دور کے بعد  ان تعلیمات کا پھیلاؤ مختلف بر اعظم میں بھی ہونے لگا اور نئے علوم و فنون کو بھی تاریخ کا حصہ بنا یا جاتا رہا۔ 730سے 750ء کے درمیان حضرت امام جعفر صادق ؒ نے علم و ادب کے خزانے بکھیرنے میں اہم کردار ادا گیا۔ ان کے مدرسہ میں طالب علموں کا مجمع موجود ہوتا تھا جن کے ذریعے طالبان علم کو نئے نئے علوم سے روشناس کرایا گیا جن کا پہلے تصور بھی مشکل تھا۔یہیں سےمسلمانوں کے اندر سائنسی رجحانات میں اضافہ ہوا طب، کیمسٹری، فزکس، اصول فقہ،  علم رجال ، احادیث کو ترتیب کرنے اور جمع  کرنے کے رجحان کا باقاعدہ آغاز یہی سے ہوا۔بہت سارے سائنسدان جن میں جابر بن الحیان کا نام بابائے کیمیا کے طور پر جانا جاتا ہے جس کی بہت سی دریافتوں میں سے ہائدروکلورک ایسڈ اور سلفیورک ایسڈ کی  دریافت کو شہرت ملی ۔ امام ابو حنیفہ ؒ   بھی یہیں سے شاگرد ہوئے جنہوں نے احادیث کو جمع کیا  اور یہ روشنی دوسروں تک پہنچائی ۔اس مدرسہ سے تعلق رکھنے والے شاگرد مختلف علاقوں میں پھیلے اور نئی نئی دریافتوں اور ایجادات کے رجحانات میں کافی اضافہ کیا۔جس کو بعد کے تاریخ  دانوں نے اسلامی علمی تاریخ بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں نہایت اہم قرار دیا۔
E     760ء میں عباسی دورحکومت میں بغدادشہر کی بنیاد رکھی گئی ۔809ء میں مامون الرشید نے حکومت سنبھالی جس کے دوران بغداد میں ایسے مرکز قائم کیے گئے جہاں دیگر مذاہب اور تہذیبوں  کے علوم و فنون کی کتب کا عربی میں ترجمہ کیا گیا اور انکی تشریح کی گئی۔ اہل یونان  کی کتب کا عربی میں ترجمہ ہوا ارسطور ، سقراط افلاطور، پلیٹیس ، ڈیموکرٹیس وغیرہ  کے علاوہ  ایشیاء سے کتب لا لاکر انہیں عربی میں ترجمہ کیا جاتاتھا۔ چین سے کاری گر اور اان کا سامان لا کر  کاغذ کی تیاری میں جدت لائی گئی ۔
E     859ء میں مراکش میں فاطمہ الفہری نے مدرسہ کی بنیاد رکھی جس کو یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہوا۔گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ زکے مطابق دنیا کی پہلی قدیم ترین یوینورسٹی کا درجہ دیا گیا جو تب سے لے کر آج تک  بلا تعطل  تعلیم کے پھیلاؤ کے ذریعہ ہے۔اس کو تقریباً دنیا کی پہلی ڈگری نوازنے والی یونیورسٹی کا بھی درجہ حاصل ہے۔ اندلس میں مسلمانو ں کے علوم و فنون  کے ذخیرےیہیں سے منتقل ہوئے۔968ء میں قرطبہ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی جو اسلامی علوم کا مرکز رہی  ۔970ء میں مصر میں الازہر یونیورسٹی  کی بنیادرکھی گئی  جس کا شمار دنیا کی قدیم بڑی یونیورسٹیز میں سے ہوتا ہے۔1067ء میں بغداد میں مدرسہ نظامیہ کا قیام عمل میں لایا گیا جو کہ علمی و ادبی گہوارہ  اور ایک بڑا علمی مرکز بنا، امام ابو حنیفہ ؒ بھی اس ادارہ کی منتظم رہے۔
E      یورپ میں تقریبا 500ء 600ء تک  چرچ کے ذریعے ہی تعلیم دی جاتی رہی، سکول وغیر ہ بھی قائم  تھے ۔آہستہ آہستہ موناسٹک سکول اور کیتھڈرل سکول میں اضافہ ہوا جہاں مذہبی لوگ تعلیم دیا کرتے تھے ۔ تعلیمی ادارے میں اضافہ ہوااور تعلیم کے حصول کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا۔ یورپ اٹلی میں 1088ء میں یونیورسٹی آف بولوگنا کا قیام عمل میں آیا ۔ انگلینڈ اور فرانس  میں تعلیم کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ۔ 1134ءسپین میں یونیورسٹی آف سلاماناکا کی بنیاد پڑی ۔ 1160ء میں یونیورسٹی آف پیرس کی بنیاد پڑی ۔ 1167ء میں انگلینڈ میں آکسفورڈ یونیورسٹی کا قیام ہوا جس کے ذریعے پورے یورپ میں علم کی شمع روشن ہوئی  لوگ پورے یورپ سے یہاں کے ہاسٹلز میں رہتے تھے اور علم حاصل کرتے تھے۔ اس کو یورپین کی پہلی بڑی یونیورسٹی کا درجہ بھی دیا جاتا ہے۔ 1209ء میں انگلینڈ میں دوسری بڑی یونیورسٹی کیمبرج یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔ 1286ء میں کیمبرج یونیورسٹریز کی طرف سے کالجز کی بنیاد پڑنا شروع ہوئی ۔ 1500ء کے بعد جب یورپ میں نئے براعظم اور خطے دریافت کرنے کی دوڑ شروع ہوئی تو  ان کالونیوں میں بھی  یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ سپینش کالونی  شمالی امریکہ میں LIMAیونیورسٹی کا قیام ہوا۔ 1636ء میں امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی ۔
E     یورپ میں ان قدیم  یونیورسٹیوں کی بنیاد نے لوگوں کی سوچ میں کافی تبدیلی پیداکی.وقت کے ساتھ ساتھ تعلیم کی افادیت کے باعث تعلیم ایک اہم جزو بننا شروع ہو گیا ۔ ترقی کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش میں تعلیم ایک اہم ہتھیار ثابت ہوا۔ 1400ء کے بعد سے تعلیم کو معاشرہ کے لیے ضروری قرار دینے کا تصور پیدا ہونے لگا جس میں تصور تھا کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ لوگ لکھنے پڑھنے کے ساتھ ساتھ دیگر علوم کی بھی مہارت رکھتے ہوں۔ جرمنی میں تقریباً 1559ء میں سب سے پہلے  تعلیم کو ہر فرد کےلیے لازمی قرار دیا گیا ۔ سکاٹ لینڈ میں تقریباً 1616ء لازمی تعلیم کے قانون پاس کیے گئے جو کہ 1946ء تک  سختی کی گئی اور تعلیم نہ حاصل  کرنے پر جرمانے بھی عائد  کرنے کا رواج پیدا ہوا ۔ تقریباً روس میں 1760ء میں تعلیم کے حصول  کو لڑکے اور لڑکیوں کے لیے لازم قرار دیا گیا۔ امریکہ میں 1852ء میں   پہلی  دفعہ ریاست میں تعلیم کو ہر فرد کےلیے لازم قرار دیا گیا اور  1918ء میں میسو سوری  آخری ریاست تھی  جس میں تعلیم کو ہر فرد کے لیے لازم قرار دیا گیا۔فرانس میں لازمی تعلیم کا قانون  1793ء میں پیش ہوا  جس میں ہر 6سال کے بچے کےلیے پرائمری تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا۔
E     برٹش کالونی بننے کے بعد یورپین کی طرف سے یہاں تعلیم ادارے قائم کیے  گئے۔ 1818ء میں تقریباً سام پور کالج کی بنیادرکھی گئی۔ 1847ء میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی گئی۔ 1857ء میں یونیورسٹی آف ممبی  اور یونیورسٹی آف کلکتہ قائم ہوئیں ۔ 1875ء میں علی گڑھ مسلم کالج کی بنیاد رکھی گئی ۔
E     پا کستان میں تقریباً دو تعلیمی ادارے قدیم  سمجھے جاتے ہیں، جن میں گورنمنٹ کالج لاہور کی بنیاد 1856ء اور یونیورسٹی آف پنجاب لاہور کی بنیاد 1882ء کو ہوئی ۔ علامہ اقبال اوپن یونیوسٹی 1974ء میں ، کام سیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی 2000ء میں، فیڈرل یونیورسٹی لاہور 2002ء میں، انسٹی ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی 2002ء میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز کی بنیاد 2000ء میں، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی 1991ء میں، پاکستان انسٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس 1957ء  میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجئنیرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز 1967ء ، قائد اعظم یونیورسٹی 1965ء میں شہید ذولفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی 2013 میں قائم ہوئیں۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے تعداد میں حکومتی تعلیمی اداروں کی نسبت زیادہ ہیں ۔ پاکستان کے بننے کے بعد مردم شماری  کے اعدادو شمار کے مطابق  1951ء میں پاکستان کی آبادی 3.37کروڑ تھی اور شرح خواندگی 16فیصد تھا 2015ء کے اعدادو شمار کے مطابق آبادی 18کروڑ سے زیادہ اور شرح خواندگی 56 فیصد ہے۔ جوکہ دیگر اکثریت ممالک کے مطابق  کم تسلی بخش  ہے۔
E     اب تعلیم ایک معاشرہ کا بنیادی عنصر بن چکا ہے۔ تعلیم کے حصول کے لیے مرد و خواتین کا فرق کم بلکہ ختم ہوتا جارہا  ہے۔ مردوں کے ساتھ عورتیں بھی تعلیم کے شعبے میں آگے ہیں۔ اب پوری دنیا میں تعلیم کا رجحان تقریباً 70-80فیصد سے بھی زیادہ ہے۔بعض ممالک میں تعلیم مفت مہیا کی جاتی ہے اور بعض ممالک میں مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ادارے بھی تعداد میں زیادہ ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں ترقی کےلیے تعلیم کے بارے میں معلومات، تجربہ، مہارت کے ساتھ ساتھ تعلیمی وسائل میں بھی اضافہ ضروری ہے۔ تعلیم کے شعبہ کے لیے بہتر منصوبہ بندی کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے، منصوبہ بندی کے بغیر  تعلیم کی کوئی سمت قائم نہیں ہو پاتی جس کی وجہ سے بہتر نتائج نہیں نکلتے ، تعلیم کے معیار کا تعین ہونا ضروری ہے۔ تعلیم کے شعبہ کے لیے آبادی کے متعلق زیادہ سے زیادہ  اعدادو شمار سے واقفیت اور انکا تجزیہ کرنا ضروری ہوتا ہے، آبادی کی شرح، لوگوں کی آمدنی ، وسائل ، کلچر، مذہب ،رسم و رواج ، ترقی کا رجحان، ضروریات  زندگی  وغیرہ کا علم ہونا ضروری ہے جس کی بنیاد پر موثر سلیبس اور طریقہ تدریس قائم کیا جاسکتا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اور معیاری تعلیم پہنچ سکے۔ کچھ لوگوں کا حصول تعلیم کا مقصد حصول معاشی  رجحان کے باعث ہوتا ، کچھ کا مذہبی رجحانات کے باعث، کچھ کا پیشہ ورانہ رجحانات کےباعث حصول تعلیم مقصد ہوتا ہے تو اس حقیقت کو نظر انداز کیے بغیر ہر کسی کو انفرادی طور پر شعبہ کی رہنمائی کرنا بھی تعلیم کا حصہ قرار پانا چاہیے کیونکہ اس عمل کے نتائج بہت بہتر ثابت ہوتے ہیں۔

E      بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ تریبت کے حصے کو بہتر کرنے کی بہت ضرورت ہوتی ہے ،  اس مقصد کے لیے بچے کی صلاحیت ، بچے کا رجحان ، بچے کے وسائل ، بچے کے حالات اور نفسیات وغیرہ کے بارے میں جاننا ضروری ہے اور اس کی صلاحیتوں کے مطابق  بچے کو متعلقہ شعبہ سے منسلک کرنا اور اس شعبے میں سہولت دینا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ انفرادی طور پر بچےکو تعلیم دینے کے ساتھ  ساتھ اسکی صلاحیتوں کو اجاگر  کرنے والی تربیت کے فوائد صرف تعلیم سے بھی کہیں زیادہ  ہو جاتے ہیں۔     

Imran Haider

I am Imran Haider CEO of Education Inn System a place where anyone can learn in short time.

2 Comments

Post a Comment
Previous Post Next Post